وہ چیزیں جو آپ ہوٹل سے ‘چوری’ کر سکتے ہیں

وہ چیزیں جو آپ ہوٹل سے ‘چوری’ کر سکتے ہیں

March 14, 2018 | 1549 Views

چھٹیاں ہوں تو گھر سے دور کسی پُرفضاء مقام پر جانے سے زیادہ اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔ ہوٹل میں قیام کے دوران وہاں موجود اشیاء استعمال کرنے کے علاوہ انہیں اپنے سفری بیگ میں ڈال کر ہمراہ لے جانے کی عادت صرف پاکستانیوں ہی نہیں ، دنیا کے تمام حصوں میں رہنے والوں میں پائی جاتی ہیں۔ برطانوی ماہرِ آداب ولیم ہنسن نے اس ضمن میں ایک فہرست ترتیب دی ہے اور سفر کے دورا ن ہوٹل میں قیام کرنے والوں کی رہنمائی کی ہے کہ وہ کون سی اشیاء ہوٹل کے کمرے سے اپنے ساتھ لے  جاسکتے ہیں اور کون سی نہیں۔

ہنسن کے مطابق، ایسی تمام اشیاء جو آپ کے جانے کے بعد پھینک دی جائیں گی یا کسی کام کی نہ رہیں گی، انہیں اپنے ساتھ لے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مثلاً شیمپو یاشاور جیل کی چھوٹی بوتلیں یا صابن کی چھوٹی ٹکیہ، جو ہر مہمان کے لیے نئی رکھی جاتی ہیں اور پرانی ضائع کردی جاتی ہیں ۔ ایسی بچی کچی اشیاء اگر مہمان اپنے ساتھ لے جائے تو کوئی ہرج نہیں۔

 

لیکن اگر کوڑے دان یا چادر وغیرہ لے جانے کی کوشش کی جائے تو یہ چوری کے زمرے میں آئے گا۔ کیوں کہ یہ اشیاء ہر مہمان کے لیے الگ نہیں رکھی جاتیں اور صفائی کے بعد باربار استعمال ہوتی ہیں، یعنی ہوٹل کی ملکیت ہوتی ہیں۔

تو پھر ٹی بیگ اور خشک دودھ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم میں سے اکثر لوگ اسے اپنے ساتھ لے جانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن ہنسن اس سے منع کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے ’’جب چائے اور کافی کی بات آئے اور اُپ کا دل اسے اپنے ساتھ گھر لے جانے کا چاہے، تو آپ سے یہ سوال پوچھنا جائز ہے کہ آپ ہوٹل پر خرچ کیوں کررہے ہیں جب کہ آپ کافی اور ٹی بیگ کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے!‘‘

اسی طرح تولیہ اور باتھ روم ٹشو لے جانے پر بھی ہنسن اعتراز کرتا ہے۔ کئی ہوٹل اپنے تولیہ پر ’’برائے فروخت‘‘ کا ٹیگ بھی چسپاں کرتے ہیں، محض اس لیے کہ مہمانوں کو علم ہوسکے کہ یہ ’’مفت کا مال‘‘ نہیں ہے۔

Advertisement