نشااور احسن شادی کے خواہشمند

نشااور احسن شادی کے خواہشمند

March 14, 2018 | 2167 Views

   انسانی معاشرہ احساس کی بنیاد پر قائم ہے اگر رشتوں کے درمیان سے احساس کا جذبہ اٹھ جائے تو زندگی پھیکی اور خوشیوں سے محروم ہوجاتی ہے۔ انسان گھٹن محسوس کرتے اور تعلقات دم توڑ جاتے ہیں۔ اگر احساس کی دولت کی فراوانی ہو تو انسان ہنسی خوشی مل جل کر زندگی گزارتے ہیں  ۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹ لیتے ہیں اور کاروان زندگی بڑے ہی خوشگوار انداز میں آگے بڑھتا رہتا ہے۔

ایسے ہی چھوٹے چھوٹے احساسات پر مبنی ایک گھر میں دو بھائی اپنے ماں باپ اور ایک تایازاد بیٹی کے ہمراہ رہتے ہیں۔ دو بھائی احسن ،محسن اور تایا زاد نشا ہے۔  اس گھر میں احساس کی اس قدر فروانی ہے کہ وہ  نشاجس  کا باپ اس کو پیدا کرکے چھوڑ کر چلا گیا ۔، ننھیال نے منہ پھیر لیا۔  ماں انتقال کر گئی لیکن تایا  اور تائی نے اس کو اپنی بیٹی سے بڑھ کر اپنایا اوراس کو کسی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔

ان تینوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ تینوں ایک دوسرے کے چہرے پڑھتے ہیں، دل میں جھانک کر دیکھتے ہیں۔ ہر پریشانی  محسوس کرتے ہیں۔ تینوں ہی اس گھر کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی ایک دوسرے کی جدائی یا دوری چند لمحوں کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ یہ ٹی وی ون کے ڈرامہ” تو جو نہیں”  کی کہانی ہے۔

اب تک اس ڈرامے کی4قسطیں نشر ہوچکی ہیں جس نے ناظرین کو اپنی جانب کھینچ لیا ہے۔ گزشتہ روز نشر ہونے والی چوتھی قسط کے آغاز  میں نشا پہلی بار اپنے ماموں اور ممانی سے ملاقات کرتی ہے لیکن محسن کو خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں یہ لوگ نشا کو ساتھ نہ لیکر چلے جائیں لیکن حسن اس کو یقین دہانی کراتا ہے کہ نشا ان کے ساتھ نہیں جائے گی اور ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ لیکن نشا اپنے ماموں سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ بعد میں ان کے گھر ضرور آئے گی۔

کہانی اس وقت دلچسپ انگڑائی اس وقت لیتی ہے جب محسن کے ماں باپ اس کے لیے رشتہ ڈھونڈنے میرج بیورو سے رابطہ کرتے ہیں اور اسی وقت احسن اور نشا آپس میں شادی کرنے کی بات چھیڑ دیتے ہیں جس سے کہانی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نشا کے خوابوں کا شہزادہ احسن ہی ہے۔ دونوں چاہتے بھی ہیں کہ جلد از جلد شادی کرلیں لیکن یہ بات اپنے ماں باپ کو بتا نہیں سکتے اور اوپر سے ماں باپ کا فیصلہ یہ ہے کہ پہلے محسن کی شادی کرائی جائے گی۔

اس دوران نشا کے ابو بلال بھی اپنی دوسری بیوی اور بیٹی کے ہمراہ  بڑے عرصے بعد پاکستان واپس آتے ہیں ۔ پہلے تو بلال کی بیوی روبینہ اس کو اپنے بڑے بھائی جلال اور بیٹی نشا سے ملنے سے روکتی ہے لیکن بیٹی کی مداخلت پر روبینہ آمادہ ہوجاتی ہے اور تینوں نشا اور جلال سے ملنے ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ نشا کے ابو بلال جو کہ اپنی بیٹی کو کم عمری میں چھوڑ کر گئے تھے اب اس کو جوان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف نشا کی ممانی اور اس کے بیٹے سمیر نے چالاکی سے نشا کو اپنے گھر بلالیا ہے۔

 اب نشا اور اس کے ابو کی ملاقات کیسی رہے گی، کیا نشا اپنے ماموں کے گھر جائے یا محسن اور حسن اس کو جانے دیں گے؟  کیا محسن کے لیے مناسب رشتہ مل جائے گا؟ کیا نشا اور احسن ماں باپ کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کر پائیں گے؟ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے دیکھیے  ڈرامہ تو جو نہیں آئندہ پیر کی رات 8 بجے صرف ٹی وی ون پر

Advertisement