ڈانس زیادہ پسند ہے،سوہا علی ابڑو

پاکستان ڈرامہ اور تھیٹرانڈسٹری میں شہرت حاصل کرنے والی خوبرو اداکارہ سوہائے علی آبڑو نے ایکٹنگ سے زیادہ ڈانس کو اپنا پسندیدہ مشغلہ قرار دیا ہے۔سوہا کا کہنا ہے کہ فنی سفر کا آغاز کیا تھیٹر سے کیا اور کئی برس تک اس سے وابستہ رہی ہیں جس کے بعد نے ٹی وی ڈراموں میں قدم رکھا اور پھراپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے مطابق مختلف اورمنفرد کردار نبھائے ہیں۔

آرٹ انسانی اقدار کا ترجمان ہے

اداکارہ کا کہنا تھا کہ فلم میں ہر کوئی فنکار کام کرنا چاہتا ہےمگر ڈراموں کی شوٹنگ اورفلم کی عکسبندی میں زمین آسمان کا فرق ہے،دونوں شعبوں میں کام کا انداز بہت مختلف ہوتے ہیں ۔ مجھے کسی بھی نئے پروجیکٹ میں کام کرنے کی پیشکش ہوتی ہے تو میرے لیے سب سے زیادہ ضروری میرا کردار اور اسکرپٹ ہوتا ہے۔

 

سوہا نے کہا کہ میرا فوکس ٹی وی پرہوگا یا فلم میں اس کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ، اس لیے فی الحال یوں لگتا ہے کہ مجھے دونوں ہی شعبوں میں کام کرنا ہے اور جہاں تک بات آرٹ اورکمرشل فلم کی ہے تومجھے کمرشل فلموں میں ہی نہیں بلکہ آرٹ فلم میں بھی کام کرنا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے ایک ہی طرح کا کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر منفرد کام کروں تاکہ ناظرین اورفلم بین جب مجھے کسی نئے پروجیکٹ میں دیکھیں توانھیں یہ محسوس نہ ہوکہ وہ کوئی پرانا کردار دیکھ رہے ہیں۔

مارچ میں پیدا ہونے والے اسٹارز

بہت چھوٹی عمرمیں ہی ڈانس کی تربیت لینا شروع کردی تھی۔ میں نے دو برس تک کلاسیکل رقص سیکھا۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ بات بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے ایکٹنگ سے زیادہ ڈانس کرنا پسند ہے۔