اب ربورٹ الیکشن میں حصہ لےگا

انسانوں کو تو الیکشن میں حصہ لیتے دیکھا ہی ہوگا مگر جب کوئی آپ سے کہے کہ میرا مقابلہ ایک ربورٹ کے ساتھ ہے تو ساتھ آپ کی بے ساختہ ہنسی نکل جائے گی۔ عالمی ٹیکنالوجی کے مرکز اور روبوٹس کی سرزمین جاپان سے خبر آئی ہے کہ وہاں مصںوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) پر مبنی پہلے امیدوار نے میئر کے مقابلے میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

مزید پڑھئیے:دنیا کا معمر ترین شخص 112 سال کا

دنیا بھر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانوں کی ملازمتوں کو لے اڑیں گے اور اس سے بے روزگاری بڑھے گی،لیکن کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ جاپان میں مصنوعی ذہانت پر مشتمل ایک فرضی شخصیت نے شہر کے میئر کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

اگرچہ اب بھی مصنوعی ذہانت کو اونچےعوامی عہدوں کےلیے موزوں قرار دینے کا کوئی قانون نہیں بن سکا ہے تاہم ٹوکیو کے نواحی علاقے ٹاما سٹی میں بلدیاتی امور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اور اسے’آرٹیفیشل انٹیلی جنس میئر‘ یا ’اے آئی میئر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

انسانی افسران کی جگہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر بلدیاتی امور کا فیصلہ کریں گے اور اس طرح بہت شفاف اور منصفانہ اور غیر جانب دارانہ فیصلے کیے جاسکیں گے جن سے ہر باشندہ یکساں طور پر مستفید ہوسکے گا۔کامیابی کا دعویٰ اب تک جاپان کی جانب سے کیا جارہا تا ہم اس کا اندازہ آئندہ چند ماہ میں ہوجائے گا۔

میئر بننے کے امیدوار میشی ہیٹو ماتسوڈا نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ دنیا میں پہلی بار مصنوعی ذہانت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنے میئر کے ذریعے شفاف اور متوازن انداز میں پہلےعوامی ڈیٹا جمع کیا جائے گا اور اس کے بعد بہت تیزی سے فیصلے کیے جائیں گےجو اگلی نسل تک کےلیے مفید ہوں گے۔

 

44 سالہ ماتسوڈا نے 2014 میں ٹاما سٹی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس بار وہ مصنوعی ذہانت کے ایک نمائندے یا اوتار کی طرح کام کریں گے۔ ان کے فیصلے اعلیٰ کمپیوٹر پروگرام کریں گے اور وہ شہر پر ان کا اطلاق کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپیوٹر الگورتھم کے فیصلوں سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر میں جگہ جگہ روبوٹک میئر کے پوسٹر لگائے گئے ہیں اور جاپانی عوام سے ربورٹ کے حق میں ووٹ ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ ان کے مسائل حل کرسکیں۔ تاہم بعض افراد نے اسے میشی ہیٹو ماتسوڈا کی ایک چال قرار دیا ہے تاکہ لوگ انہیں میئر منتخب کرسکیں اور انہوں نے سہارا کسی کمپیوٹر الگورتھم یا اے آئی کا لیا ہے۔

مزید پڑھئیے:کنگ خان روبوٹ’صوفیہ‘کے بھی پسندیدہ اداکار

.اب یہ بات میئر کے انتخابی نتائج کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی کہ جاپانی لوگ کسی مشین پر اعتماد کرتے ہیں یا نہیں