میگا سیریل گھگھی، ناظرین کی زبردست پذیرائی

طویل انتطار کے بعد بالاخر ٹی وی ون کی منفرد میگا سیریل ’’ گھگھی‘‘ کی پہلی قسط جمعرات25جنوری کو نشر ہوئی جس کو ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ پنجاب کے کھیت کھلیان، ہریالی اور گائوں دیہات کا سادہ طرز  زندگی، مرکزی اداکارہ امرخان کی جاندار انٹری اور کانوں میں رس گھولتا وائس اوور ڈرامے کے آغاز میں ہی ناظرین کو  اپنی گرفت میں لے  لیا۔

ڈرامہ کی ہدایت کاری سے لیکر ایڈیٹنگ تک کسی جگہ جھول نظر نہیں آتا۔ ہر منظر کو بہترین انداز میں فلمایا گیا ہے۔  ہدایت کار نے ناظرین کی دلچسپی بڑھانے کا پورا خیال رکھا ہے جبکہ رائٹر نے کہانی کچھ اس انداز میں لکھی ہے کہ تجسس بڑھتا ہی چلاتا ہے۔

میگا سیریل کی کہانی  معروف افسانہ نویس اور مصنفہ آمنہ مفتی نے امریتا پریتم کےشاہکار ناول پنجر سے متاثر ہوکر لکھی، ہدایت کاری  کے فرائض اقبال حسین نے بخوبی سر انجام دیے ۔ کردار عدنان صدیقی نے اپنی جاندار ادکاری کے ذریعے ڈرامے کو چارچاند لگائے ہیں جبکہ  کیریئر کا آغاز کرنے والی مر خان بھی اپنی صلاحیتوں کا لونا منوانے میں پوری طرح کامیاب رہی۔  میگا سیریل سے وابستہ ہر اداکار نے اپنے  کردار کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے، کسی بھی جگہ کوئی پہلو تشنہ نہیں رہا۔

ڈرامے کا مرکزی خیال اس پر بات پر مبنی ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی جنگوں، تنازعات اور دشمنیوں میں ہمیشہ خواتین کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں جرگوں اور پنچایت کے ذریعے خواتین کا استحصال معمول کی بات ہے۔ در اصل گھگھی میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر کیوں مردوں کی لڑائی میں خواتین ہی جبر کا شکار ہوتی ہیں جبکہ خواتین کو  یہ حوصلہ دیا گیا ہے کہ ظلم کو چپ کر کے سہنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

میگا سیریل گھگھی کی پہلی قسط میں مسلم شیخ خاندان اور ہندو ساہوکاروں کو دکھایا گیا ہے۔ آگے بھی کہانی ان دو خاندانوں کے گرد گھومتی رہے گی۔ شیخ خاندان کے آباو اجداد نے ساہوکاروں سے بیلوں کی جوڑی ادھار لی تھی جس کے بدلے شیخوں کی ساری جائیدار گروی رکھی گئی ہے۔ فصلیں خراب ہونے کے باعث شیخ خاندان قرضہ واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔دوسری جانب اس پر سود اتنا چڑھا ہے کہ ساری رقم لوٹانا ناممکن ہوچکا ہے۔

ساہوکاروں کے لونڈے شیخ خاندان کی لڑکی ’’ عنایت ‘‘ کو راستے میں روک کر ہراساں کرتے ہیں، معاملہ پنچایت پہنچ جاتا ہے اور سرپنج الٹا شیخوں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ شیخوں نے ساہوکاروں پرالزام لگاکر بدنام کرنے کی کوشش کی ہے لہٰذا اس بدنامی کے بدلے میں شیخوں کی لڑکی ’’عنایت‘‘ تین دن تک ساہوکاروں کے گھر میں رہے گی۔ عنایت کا بھائی پنچایت کے اس فیصلے سے بغاوت کرتا ہے لیکن ساہوکاروں کے لونڈے عنایت کو زبردستی اٹھا کر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔

نا انصافی پر مبنی اس فیصلے پر شیخ خاندان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ عنایت کا بھائی خودکشی کرلیتا ہے اور دوسرا بھائی علاقے سے ہجرت کرجاتا ہے جبکہ ان کا باپ اپنے گھر میں رہ جاتا ہے۔یہاں سے نفرت اور انتقام کا ایک نیا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ اس سفر میں آگے کیا ہوگا اس کے لیے اگلے جمعرات کا انتظار کرنا پڑے گا۔ دیکھتے رہیں ’’گھگھی‘‘  ہرجمعرات، رات8بجے صرف ٹی وی ن پر