ڈرامہ عادت: محبت میں معجزے ہوجاتے ہیں

کیا آپ معجزوں پر یقین رکھتےہیں؟ محبت کرنے والے ضرور رکھتے ہیں۔ اور معجزے ہوتے بھی ہیں۔ آزر اور منال کے لیے ان کی شادی بھی معجزے سے کچھ کم نہیں۔ ڈرامہ سیریل عادت میں ثناء، فرحان، آزر اور منال، سبھی  محبت کی بھول بھلیوں میں گھوم رہے تھے کہ منال اور آزر ایک دوسرے کو مل گئے جب کہ فرحان اور ثناء خالی ہاتھ رہ گئے۔

گزشتہ روز نشر ہونے والی  سولہویں قسط میں آزر، ضمانت ملتے ہی منال کے گھر جا پہنچا جہاں فرحان پہلے ہی اپنے نکاح کے لیےموجود تھا۔ کسی بد مزگی سے بچنے کے لیے فرحان نے سیکیورٹی کا بھرپور بندوبست کررکھا تھا۔ آزر کے بابا اسے سمجھا بجھا کےاور دھمکیوں سے، غرض ہر طریقے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے کہ منال کےماموں غازی نے یہ سب دیکھ اور سن لیا۔ اور انہوں نے موقع پر ہی فیصلہ کرتے ہوئے منال کا نکاح فرحان کے بجائے آزر سے کروادیا۔ اسی وقت رخصتی بھی ہوگئی۔ یوں منال جو اپنے دل و دماغ کے درمیان ایک کشمکش میں الجھی تھی، غازی ماموں کی عقل مندی کی بدولت من کے پیا کے گھر جا بسی۔ یہ سب اتنی عجلت میں ہوا کہ کوئی تقریب ہوئی نہ گیت سنگیت۔ شاید ان دونوں کے نصیب میں ملن اسی طرح لکھا تھا۔

نصیب کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔ یہ تو کوئی ثناء کے دل سے پوچھے کہ اس پہ کیا بیت رہی ہے۔ وہ فرحان کا نکاح نہ ہونے پر فرحان اور اس کے گھر والوں کے ساتھ ہی وہاں سے چلی آئی تھی، یہ تو جان چکی تھی کہ اب آزر اور منال ایک ہونے کو راضی ہیں، لیکن اسی وقت اُن دونوں کا نکاح ہوگیا اور رخصتی بھی، یہ اس کے علم میں نہ تھا۔ اس کے لیے یہی صدمہ سہنا دشوار تھا کہ آزر، ایک بار پھر منال کے ساتھ ہے۔ شاید یہی وجہ اس کی غائب دماغی سے گاڑی چلانے کی وجہ تھی، جس کے نتیجے میں وہ ایک حادثہ کا شکار ہوگئی۔

منال، جو اپنے نئے بننے والے رشتے کے لیے بہت خوش اور پرجوش ہے۔ صبح اپنے گھر والوں کے آنے کا انتظار کررہی تھی کہ یہ اچانک خبر سن کر پریشان ہوگئی۔ اس کے سسر یعنی آزر کے بابا تو فوراً ہی ثناء کو دیکھنے چلےگئے لیکن آزر کے آرام میں دخل دینے سے منع کرگئے۔ نتیجتاً جب آزر سوکر اٹھا اور منال نے اسے یہ بات بتائی تو وہ اچانک ہی بہت پریشان ہوگیا اور بھاگم بھاگ ثناء کو دیکھنے چلا گیا۔ جب کہ منال کے گھر والے اس سے ملنے آنے ہی کو تھے۔ لیکن وہ نہ رکا۔

نئی نویلی دلہن کے دل پر یہ پہلا گھائو لگا جس کی وجہ آزر کا جذباتی پن تھا۔ وہ شاید یہ بھول چکا ہے کہ اس سے قبل بھی منال اس سے دور ثناء ہی کی وجہ سے ہوئی تھی، اور اب جب کہ وہ اس کی بیوی بن چکی ہے، اس قدر عجلت اور جذباتی قدم اُٹھانا نئے بننے والے رشتے میں دراڑیں بھی ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب ثناء کو آزر کے بابا نے سچائی کے ساتھ بتادیا کہ آزرکا نکاح اور دلہن کی رخصتی کل ہوچکی ہے۔ یہ سہنا ثناء کے لیے کوئی آسان بات نہ تھی، لیکن جانے کس دل سے وہ یہ سب برداشت کرگئی اور بابا سے کہا کہ مجھے آپ سے یا آزر سے کوئی شکایت نہیں۔ یا تو وہ بہت اعلیٰ ظرف ہے یا پھر ابھی بھی اس کی یہ آس ٹوٹی نہیں کہ وہ آزر کو بالآخر حاصل کرلے گی۔

اُمید پہ دنیا قائم ہے۔ اور یہی سچ بھی ہے۔ زندگی کے بارے میں اُمیدیں اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں اُمیدیں۔ اگر انسان سے امیدیں چھین لی جائیں تو شاید تلخ حقیقتوں کے سوا کچھ بھی نہ بچے۔ ثناء بھی امید کے سہارے زندہ ہے۔ منال کو بھی اچھے دنوں کی آس ہے اور آزر کو بھی زندگی میں بہار آنے کی خوشی ہے۔ لیکن فرحان کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے اور وہ اگلا قدم کیا اُٹھائے گا، یہ تو آنے والی اقساط میں ہی عقدہ وا ہوگا، اس دلچسپ کہانی کو دیکھتے رہیئے ہر منگل کی رات 8 بجے صرف ٹی وی ون پر۔