ڈرامہ سیریل کسک رہے گی: زندگی میں صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا

ڈرامہ سیریل کسک رہے گی کی  قسط نمبر 18 نشر کی گئی، نئی قسط کے آغاز میں ایمان دانیال کے ساتھ اپنے گھر جاتی ہے جہاں اس کے والد  ایمان کے لیے گھر کے دروازے بند کردیتے ہیں۔  دانیال اور ایمان وہاں سے منہ کی کھانے کے بعد گھر واپس آتے ہیں ، ناصرہ بیگم دانیال کو سمجھاتی ہیں کہ گھر میں آنے کے آداب بھول گئے ہو؟ جس پے دانیال اپنی ماں سے بد تمیزی سے پیش آتا ہے۔

دانیال اگلے روز ناصرہ بیگم کے پاس جاتا ہے اور شرمندگی کا اظہار کرتا ہے، دانیال ساتھ میں یہ سوال بھی کر ڈالتا ہے کہ  میرا دوسری شادی کرنا آپ کو اتنا ناگوار کیوں گزر رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ناصرہ بیگم کہتی ہیں کہ تمہارا دوسری شادی کرنا برا نہیں لگا مگر ایک شادی شدہ عورت کو  ورغلا کر اس کی شادی تڑوا کر اس سے شادی کرنا یہ بہت بری بات ہے۔ دوسری جانب دانیال کا اپنا بیٹا اس کے اس رویے کو دیکھ دیکھ کر اس سے بدظن ہوجا تاہے۔

ایمان دانیال کے ساتھ شاپنگ کے لیے جاتی ہے جہاں وہ  فصیح کو  شاپنگ کرتا دیکھ طنزیہ نظروں سے دیکھتی ہے۔ ایمان دانیال کو بھی اپنا اصل روپ دیکھانا شروع کر دیتی ہے۔ ایمان صبح جلدی اٹھ کر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہوتی لیکن دانیال اسے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دانیال کے کان میں ایمان پھونک مار دیتی ہے کہ رابعہ کو طلاق دیکر یہاں سے چلتا کرو۔ دانیال رابعہ کو چھوڑنے کی بات کرتا ہے تو ناصرہ بیگم بھی اس کے ساتھ روانہ ہوجاتی ہیں۔