ڈرامہ سیریل مریم پریرا: مریم اور سفیان کی راہیں جدا ہوگئیں

ہمارے معاشرے میں شوہر بیوی کو وہ عزت اور چاہت نہیں دیتے جس  کی وہ اصل میں حقدار ہوتی ہے۔ عورت کو دو وقت کی روٹی اور  اپنے گھر میں تھوڑی سی جگہ دیکر مرد حضرات ان کو اپنے گھر  کی باندھی سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار ڈرامہ سیریل  مریم پریرا میں صادق نے کیا۔

ضرور پڑھیں: ڈرامہ سیریل رو رہا ہے دل: زویا اور احد کی محبت کی ڈولتی ہوئی کشتی کو کنارہ مل پائے گا؟

ڈرامہ کے آغاز میں حاکم خان اور صادق  مریم پریرا اور کرسچن کالونی کے  مدعے پر گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کو آپس میں گفت و شنید کرتا سن کر  علی پریشان سا ہو جاتا ہے ۔ علی اپنے باپ یعنی حاکم خان کو دو ٹوک لفظوں میں کہہ دیتا ہے کہ  اگر آپ اس کالونی کے خلا کوئی کاروائی کریں گے تو میں آپ کے بجائے مظلوم کا ساتھ دینا پسند کروں گا۔ حاکم خان کے اعصاب پر مریم پریرا نے مکمل طور سوار ہے اس مریم کو راستے سے ہٹانے کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا۔

سفیان نے   گھر والوں کے روز روز کے  طعنوں سے بچنے کے لیے مریم کے گھر کا رخ کیا ۔  مریم سفیان کو دیکھتے ہی چونک جاتی ہے اور سفیان مریم سے اپنی محبت اور اُس پر ضائع کئے گئے دن مہینے اور سالوں کا حساب مانگتا ہے اور ساتھ مریم کو یہ طعنہ بھی دی ڈالتا ہے کہ  میری جگہ تمہاری زندگی میں کوئی اور آگیا ہوگا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ سفیان اور مریم پریرا کی باتیں مریم کی چھوٹی بہن  جینی سن لیتی ہے اور  مریم ایک بار پھر اس کے آگے جھوٹی پڑ جاتی ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈرامہ سیریل نولکھا: ایک عورت ہی دوسری عورت کے دکھ کو سمجھ سکتی ہے

سفیان کی امی اس کی اور مریم کے درمیان رشتہ کی ذمہ دار حفصہ کو سمجھتی ہیں۔ حفصہ بیچاری سفیان کی منت و سماجت کرتی رہ جاتی ہے کہ خدارا ایک با ر تو مریم کی بات کو تسلی کے ساتھ سن لیا جائے۔ لیکن سفیان حفصہ کو صاف انکار کر دیتا ہے کہ اب اس لڑکی کی طرف داری کرنا بند کردو۔  دوسری جانب حاکم خان علی کو  ایم پی اے بنانے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا ہوتا ہےلیکن علی اپنے بابا کو منع کردیتا ہے۔