ڈرامہ سیریل جدا نہ ہونا: بیٹی تو رب کی رحمت ہوتی ہےتو بیٹی کی پیدائش پر مایوسی کا اظہار کیوں؟

اولاد  کی پہلی درسگارہ والدین کی گود ہوت ہے، اور والدین کی تربیت سے انسان  کو  صحیح یا غلط کی پہچان ہوتی ہے ۔ اگر والدین ہی اولاد کی تربیت پر توجہ نہ دیں تو اولاد راہ راست بھٹک جاتی ہے۔ٹی وی ون پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل جدا نہ ہونا کی دوسری قسط نشر کی گئی جس میں معاشرے کے اسی پہلو کی انتہائی خوبصورتی کے ساتھ عکاسی کی گئی ۔

ڈرامہ کی دوسری قسط کے آغاز میں عبد المنان اپنی بیٹی سماہا کو ناشتہ کی میز پر رشتے کی بات کرتے ہیں بلکہ اس پر یہ حکم صادر کرتے ہیں کہ اس کو دیکھنے والے آرہے ہیں لہٰذا ان کے سامنے کسی قسم کی حرکت مت کرنا۔ دوسری جانب  سدیس والدین کی لاعلمی کی وجہ سے  غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتاہے۔ سدیس رات گئے اپنی دوستوں کے غل غپاڑہ  کرکے گھر لوٹ رہا ہوتاہے کہ اس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو جاتی ہے۔.

سدیس کے والد رات گئے  تھانہ سے اس کی ضمانت کروا کر اسے گھر لاتے ہیں  ۔ اگلے روز سدیس کی ماں اسے دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہیں جس پر اس کے والد سے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ادھر سماہا کو دیکھنے کے لیے عبدالمنان کا دوست اور اس کا بھانجا ان کے گھر آتے ہیں ۔ سماہا ان کے سامنے صاف کہہ دیتی ہے کہ وہ ایسے زبردستی کے رشتوں پر یقین نہیں رکھتی۔ لہٰذا وہ یہ شادی نہیں کرے گی ۔

عبدالمنان  اپنے دوست کے سامنے رسوا ہونے کے بعد سماہا پر برس پڑتے ہیں ، وہ غصہ میں سماہا سمیت اس کی ماں پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ جس پر سماہا اپنی خاموشی توڑتی ہے اور اپنے باپ کو مخاطب کرکے کہتی ہے کہ اسلام بھی اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگلے روز سماہا کےیونیورسٹی  جانے پر پابندی لگادی جاتی ہے ، اور وہ باپ کے احکام کو بالائے طاق رکھ کر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو جاتی ہے،۔