ڈرامہ اب بھی موجود ہے مگر کہاں ؟

ڈرامہ اب بھی موجود ہے مگر کہاں ؟

September 21, 2017 | 639 Views

پاکستانی ڈرامہ اپنی ایک مضبوط اساس رکھتا ہے ۔ مگر اس روایت سے سر مو انحراف کیا جا رہا ہے ۔ آج کا ڈرامہ ساس بہو کے جھگڑوں شادی بیاہ ، رشتوں کے تنازعات سے باہر نہیں نکل سکا۔ ہمارے ناظرین صرف تفریح کے ذرایع تلاش کرتے رہے ہیں مگر اُنہیں تفریح کا نام پر رشتوں کے اُلجھاوں میں پھنسا دیا گیا ۔اس غلط روایت کو پڑوسی ملک کے ڈراموں نے زیادہ پروان چڑھایا، ہمیں یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ ہمارے پاس کہانی نہیں ہے تو کبھی کہا گیا پاکستانی مواد میں ناظر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ، ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ فن ڈرامہ زوال کی جانب گامزن ہو رہا ہے جبکہ صورتحال ایسی بالکل بھی نہیں تھی مگر اس روایت سے سر مو انحراف کیا جا رہا ہے ۔ آج کا ڈرامہ ساس بہو کے جھگڑوں شادی بیاہ ، رشتوں کے تنازعات سے باہر نہیں نکل سکا، انڈین ڈراموں کو ہی لے لیجئے تو آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اصل میں موضوعات کا کال اُن کے ہاں ہے اور پھر جس عرق ریزی اور جانفشانی سے پہلے ڈرامہ فیلڈ میں کام ہوتا تھا وہ اب مفقود ہو چکا ہے ، ہم اپنے ڈراموں میں پہلے تو سماجی خدشات کو آگے بڑھاتے ہیں اور بعد میں ڈائیلاگ اُس میں گوندھتے ہیں کم سے کم پچھلے سات سے آٹھ سالوں میں یہی ہوا ہے اور ایک کاروباری طوفان کی موجیں ہمارے ناظرین کے ذہنوں سے ٹکرانے لگیں ایسے میں انٹرٹینمنٹ کے نام پر ایسا بہت کچھ چلایا گیا جس نے ناظرین کے اذہان پر نقصانات مُرقسم کئے یہی وجہ تھی کہ ویویور مایوس ہونے لگا ایسے میں چند چینلز نے اس بحران میں اپنا اِن پُٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے اُن میں ٹی وی ون سر فہرست ہے ۔ اس کے ڈراموں میں مقصدیت اتنے موہوم سے انداز میں ہے کہ اُس سے بوریت نہیں ہوتی ڈرامہ جلتی ریت پر اس کی مثال ہے اس ڈرامہ سیریل میں ایک ایسی لڑکی کی جد وجہد کو مرکز بنایا گیا ہے کہ کہانی میں اُس کا شوہر ایک حادثےمیں قتل ہو جا تا ہے مگر وہ منفی قوتوں سے لڑتی ہے ایک عام پاکستانی لڑکی کی طرح اور اُسے ویسی ہی مشکلات کا سمنا کرنا پڑتا ہے جس سے عام لڑکی گُذرتی ہے ، بہ نظر غائر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ٹی وی ون نے ڈرامے میں کہانی کو مرنے نہیں دیا ہے اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر انڈین مواد کی پیروی بھی نہیں کی ہے ۔

Advertisement