مقبول ترین ڈرامہ سیریل گھگھی کا زبردست اختتام

مقبول ترین ڈرامہ سیریل گھگھی کا زبردست اختتام

August 10, 2018 | 1540 Views

مسلمان لڑکا،ہندو لڑکی،سنہ 1946،محبت ، نفرت اور انتقام، ان سب سے مل کر بنی ہےٹی وی ون کی نئی میگا ڈرامہ سیریل ‘‘گھگھی’’ نے پہلی سے آخری قسط تک ناظرین کی توجہ کا مرکز  بننے والے  مقبول ترین ڈرامہ سیریل گھگھی  کا زبردست اختتام، ڈرامہ نے اپنے دیکھنے والوں کے  دل جیت لیے۔

مزید پڑھیں:  سوشل میڈیا پر گانے سے مقبول ہونیوالا پینٹر اب آئمہ بیگ کےساتھ پرفارم کرے گا

ڈرامہ کی کہانی بنیادی طور پر دو خاندانوں کے گرد گھومتی ہے جن میں سے ایک ہندو ساہو کارہیں اور دوسرے مسلم شیخ۔ غربت اور قرض ادا نہ کر سکنے کے باعث شیخ خاندان پنچائت کے ایک ظالمانہ فیصلے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے اور ساہوکار خاندان تین دن کے لیے ان کی بیٹی ‘‘عنایت’’ کو اپنے سا تھ لے جاتا ہے۔ اس نا انصافی کے باعث مسلم گھرانے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ عنایت کا ایک بھائی خودکشی کر لیتا ہے اور دوسرا بھائی ، عنایت اور بیوہ بھابی کو لے کرعلاقے سے ہجرت کرجاتا ہے۔ یہاں ہندووں کی تعصب پرستی اور پنچائت کےغلط فیصلوں میں عورتوں سے ہونے والی ناانصافی کو بڑی مہارت سے موضوع بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈرامہ سیریل نولکھا کی پہلی قسط نشر، عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی

گزشتہ شب ڈرامہ کی آخری قسط نشر ہوئی ،  انسپکٹر  رشید کی گاؤں میں  غیر موجودگی کا سن کر  اس کے گھر کا رخ کرتا ہے اور رشید کا چچا انسپکٹر کو تمام معاملے سے آگاہ کرتاہے۔ چاچا سجاد کے دل میں ساہو کاروں کے  لیے بغض کم ہونے کے بجائے بڑھتا جارہا ہے۔ فاطمہ، رشید اور پریتو پولیس اسٹیشن پہنچ جاتے ہیں اور سکھ چند اور ٹیک چند دونوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  سوشل میڈیا پر گانے سے مقبول ہونیوالا پینٹر اب آئمہ بیگ کےساتھ پرفارم کرے گا

چوہدری صاحب فاطمہ کو ساتھ جالندھر چلنے کا کہتے ہیں لیکن وہ جانے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔ اور وہاں سے بھاگ کر واپس رشید کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ رشید فاطمہ کو دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہے اور وہ وہا ں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ سکھ چند  پریتو کو بتاتا ہے کہ اس نے رشید کے کھیتوں آگ ضرور لگائی تھی لیکن اس لڑکی کو چھوا تک نہیں جس کو مجھ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈرامہ سیریل نولکھا کی پہلی قسط نشر، عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی

ڈرامہ کے اختتام نہایت ہی دلچسپ انداز میں ہوا جب فاطمہ اور رشید دونوں واپس گھر کو لوٹے اور  چاچا سجاد اور رشید کی ماں دونوں اسے دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھے۔  فاطمہ رشید سے اس بات اظہار کرتی ہے کہ جیسے ایک بیوی کو اس کا شوہر عزیز ہوتا ہے بلکل ویسے ہی مجھے تم عزیز ہو ۔ اور یہی اس لازوال اور میگا سیریل ڈرامہ کا اختتام ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں:  سوشل میڈیا پر گانے سے مقبول ہونیوالا پینٹر اب آئمہ بیگ کےساتھ پرفارم کرے گا

Advertisement