جدا نہ ہونا قسط 16: خوابوں کا چکنا چور ہونا اسے کہتے ہیں

ڈرامہ سیریل جدا نہ ہونا کی گذشتہ قسط میں دیکھایا گیا تھا کہ کیسے ایک باپ بیٹے کے بیچ می اس قدر نا اتفاقی پیدا ہوجاتی ہے کہ ایک باپ کو اپنی اولاد کو بے گھر کرنا پڑتا ہے۔

ڈرامہ کی سولہویں قسط کے آغاز میں ماریہ سدیس کا ہاتھ پکڑ کر اس سےاپنے پیار کا اظہار کرتی ہےاور یہ منظر سماہا دیکھ لیتی ہے جس پر وہ سدیس سے ناراض ہوکر چلی جاتی ہے،سدیس سماہا کو منانے کی کوشش کرتا ہے کے وہ صرف اس سے پیار کرتا ہے۔ دوسری جانب سدیس کی ماں بیٹے کی محبت میں پریشان ہوتی ہے کے نا جانے اُس کا بیٹا کس حال میں ہوگا اور کیسے گزارہ کر رہا ہوگا۔

نعمان کے گھر سے نکانے­ کے بعد سدیس ماریہ کو رہنے کیلئے جگہ کا انتظام کرنے کا کہتا ہےجس پر ماریہ اسکے لئے فلیٹ کا انتظام کرواتی ہے۔ ،مگر جب سماہا اور سدیس خوشی خوشی اُس فلیٹ پر جاتے ہیں تو دونوں کافی حیران ہوتے ہیں کے یہ انکے رہنے لائق جگہ نہیں ہے۔ سدیس ماریہ کو کال کرکے غصے کا اظہار کرتا ہے۔

سدیس سماہا سے کہتا ہے اندر جا کر دیکھتے ہیں کا گھر کیسا ہے فلیٹ کے دیکھ کر سماہا سدیس سے غصے کااظہار کرتی ہے اور سدیس سے علحیدگی کا مطالبہ کرتی ہے،سدیس اُس کی باتوں سے غصہ میں آکر وہاں سے چلے جاتا ہے،کچھ دیر بعد اپنی غلطی کا احساس ہونے پر سماہا سدیس کو کال کرکےمنا لیتی ہے۔

دوسری جانب سدیس اپنی ماں کو کال کرکے گھر واپسی کے لیئے منانے کی کوشش کرتا ہےجس پر اُس کی ماں سماہا کو چھوڑ کر گھر واپس آنے کی شرط اُس کے سامنے رکھ دیتی ہےجسے سدیس ماننے سے انکار کردیتا ہے۔

 دوسری طرف بیٹے کی من مانیوں سے تنگ آکرنعمان حسن اُسے اپنی تمام جائیداد و کاروبار بے دخل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

  اولاد بہت بڑی نعمت ہو تی ہے اور اگر اولاد اکلوتی ہوتو اسے بہت لاڈ پیار سے پالا جاتا ہے اور وہی اولاد اگر والدین کی نا فرمانی کرے تو والدین کو اسکے خلاف سخت فیصلہ لینا پڑتا ہے۔۔۔

مزید جانئے کیلئے دیکھتے ڈرامہ سیریل جدا نہ ہونا صرف ٹی وی ون پر